ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گھوسی: عصمت دری کے ملزم بی ایس پی ممبر پارلیمنٹ اتل رائے کو سپریم کورٹ سے دھچکا،پارلیمنٹ سے پہلے جاناہوگا جیل

گھوسی: عصمت دری کے ملزم بی ایس پی ممبر پارلیمنٹ اتل رائے کو سپریم کورٹ سے دھچکا،پارلیمنٹ سے پہلے جاناہوگا جیل

Tue, 28 May 2019 12:29:11    S.O. News Service

نئی دہلی / لکھنؤ، 28 مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کی گھوسی لوک سبھا سیٹ سے فرار چل رہے نو منتخب ایم پی اتل رائے کو سپریم کورٹ سے جھٹکا لگا ہے۔عصمت دری کے ملزم اتل رائے نے گرفتاری سے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے عرضی داخل کی تھی جسے سپریم کورٹ نے ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے۔بتا دیں کہ یوپی کالج کی ایک سابقہ طالبہ نے ان پر کیس درج کروایا تھا۔اس کے بعد عدالتی مجسٹریٹ نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔اس کے بعد سے ہی اتل رائے فرار چل رہے ہیں۔اتل رائے نے اپنے خلاف درج کیس میں 23 مئی تک راحت کی مانگ کی تھی جسے سپریم کورٹ نے ٹھکرا دیا تھا،تب جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس سنجیوکھنہ کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا تھاکہ یہ منسوخ کرنے والا معاملہ نہیں ہے۔ اس دوران کورٹ نے کہا تھاکہ انتخابات لڑیں اور یہ مقدمہ بھی۔ بنچ نے اتل رائے کے وکیل سے یہ بھی کہا تھاکہ معاف کرئیے گا۔آپ منسوخ کرنے کے عمل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس کے بعد اس پر پیر کو سماعت ہونی تھی جہاں کورٹ نے دوبارہ اتل رائے کی درخواست مسترد کر دی۔اتر پردیش کی گھوسی سیٹ سے اتحاد سے بی ایس پی کے فرار امیدوار اتل رائے اپنے مخالف بی جے پی کے ہری نارائن سے ایک لاکھ 22 ہزار ووٹوں جیتے تھے۔اتل سنگھ پر ریپ کا الزام ہے۔یوپی کالج کی ایک سابق طالبہ نے ان پر کیس درج کروایا تھا۔اس کے بعد عدالتی مجسٹریٹ نے ان کی گرفتاری کا حکم دے دیا،وہ ضمانت کے لئے ہائی کورٹ تک گئے لیکن ضمانت نہیں ملی۔انتخابی مہم کے دوران وہ اپنے علاقے میں موجود نہیں تھے، تاہم سینئر لیڈر ان کی تشہیر کے لئے یہاں پہنچ رہے تھے۔اتل رائے کے خلاف لک آؤٹ نوٹس جاری ہوا ہے اور ملک بھر کے ایئر پورٹ پر الرٹ جاری کیا گیا ہے۔طالبہ کا الزام ہے کہ اتل سنگھ نے اسے بیوی سے ملانے کے لئے رہائش گاہ پر بلایا تھا اور اس کے بعد موقع کا فائدہ اٹھا کر آبروریزی کی۔متاثرہ کا الزام ہے کہ اتل نے اسے جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی،اگرچہ اتل سنگھ کا کہنا ہے کہ شادی سے پہلے ان کے آفس آکر الیکشن لڑنے کے نام پر چندہ لیتی تھی اور انتخابات میں امیدوار بننے کے بعد بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔اتل رائے کے دفاع میں مایاوتی بھی اتری تھیں اور انہوں نے کہا تھا کہ ان کے امیدواروں کو بدنام کرنے کے لیے بی جے پی سازش کر رہی ہے۔اتر پردیش میں بی ایس پی اور ایس پی کا نسلی مساوات اتل سنگھ کے حق میں رہا۔گھوسی سیٹ پرتقریباََ 3.5 لاکھ جاٹ اور دولاکھ یادوہیں۔یہاں چار لاکھ اعلیٰ ذات ہیں اور دیگر غیر جاٹ-دلت ذاتیں بھی ہیں۔نسلی مساوات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس سیٹ پراتحاد کے امیدوار کو بڑی حمایت ملناطے تھا۔اتل رائے کے گھر پر پولیس نے کئی بار چھاپہ ماری کی لیکن ان کا پتہ نہیں چلا۔یہاں تشہیر کرنے والے لیڈر لوگوں کو بھروسہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اتل پر لگے الزام بے بنیاد ہیں اور انتخابات کے بعد وہ خود اسے ثابت کریں گے۔بتا دیں کہ امیدوار بننے کے کچھ وقت بعد تک وہ انتخابی مہم کرتے رہے اور اس کے بعد غائب ہو گئے۔


Share: